زہد و ورع

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - پرہیزگاری، لہو و لعب سے اجتناب۔ "زہد و ورع اور تقویٰ اپنی جگہ مگر طلبہ اور اساتذہ کے کرکٹ میچ میں لڑکوں نے ڈاکٹر صاحب کے پیروں میں بھی پیڈ باندھے۔"      ( ١٩٨٨ء، قومی زبان، کراچی، اپریل، ١٧ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'زہد' کے آخر پر 'و' بطور حرف عطف لگا کر عربی اسم 'ورع' لگانے سے مرکب عطفی 'زہد و ورع' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٧٩٤ء کو "دیوان بیدار" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پرہیزگاری، لہو و لعب سے اجتناب۔ "زہد و ورع اور تقویٰ اپنی جگہ مگر طلبہ اور اساتذہ کے کرکٹ میچ میں لڑکوں نے ڈاکٹر صاحب کے پیروں میں بھی پیڈ باندھے۔"      ( ١٩٨٨ء، قومی زبان، کراچی، اپریل، ١٧ )

جنس: مذکر